Panjabi: ذات صرف خدا دی اچّی، باقی سب کجھ مٹّی مٹّی

Alfaaz

Senior Member
English
پس منظر: معروف کلام جو خُطَب، فلسفیانہ دروس/مبحثات، مشاعرات، وغیرہ میں اکثر سنا اور پڑھا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر اس کلام کو مختلف طرائق سے پیش کیا گیا ہے اور خواجہ غلام فرید، فریدالدین مسعود گنجِ شکر، اور سید عبد الله‎ شاہ قادری عرف بلھے شاہ سے منسوب کیا جا چکا ہے۔ اگر مشاہدہ و مطالعہ میں مغالطہ نہ ہوا ہو، تو خواجہ غلام فرید کے کلام میں "فریداؔ" حالتِ ندائی میں شاید مستعمل نہیں ملتا(؟)، بلکہ فریدؔ یا یار فریدؔ، وغیرہ مستعمل ہیں۔ تاہم، فریدالدین گنجِ شکر کے کلام میں "فریداؔ" کثرت سے مستعمل ہے۔

ویکھ فریداؔ مٹّی کھُلّی
مٹّی اُتّے مٹّی ڈُھلّی
مٹّی ہسّے مٹّی رووے
انت مٹّی دا مٹّی ہووے
...
ذات صِرف خُدا دی اُچّی
باقی سب کُجھ مٹّی مٹّی

اگر پنجابی املا میں کوئی اغلاط ہوں، تو معذرت! براہ مہربانی، تصحیح کیجے.

سؤالات:
براہ مہربانی، فورم کے ارکان نشان دہی کر سکتے ہیں کہ یہ کلام در حقیقت کس شاعر کا ہے اور (فی الوقت) انٹرنیٹ پر موجود کسی دیوان میں مل سکتا ہے یا نہیں؟
تھریڈ کو فورم کی مناسبت سے معاملاتِ لسانی کے متعلق کرنے کے لیے: کیا "کجھ" ہی درست ہے یا پھر "کچھ" بھی صحیح تصور کیا جاتا ہے؟
 
  • Top