Urdu: اردو نثر میں عربی اور فارسی الفاظ میں نونِ غنّہ کا استعمال

Qureshpor

Senior Member
Panjabi, Urdu پنجابی، اردو
دوستانِ فورم آداب و تسلیمات۔

سن دو ہزار گیارہ میں مَیں نے اردو اور فارسی شاعری میں نون غنّہ کے موضوع پر ایک لڑی شروع کی تھی۔ آپ سب کو یقیناً معلوم ہو گا کہ فارسی اور عربی کے وہ الفاظ جن کے آخر میں طویل حروفِ علّت کے بعد حرفِ نون آتا ہے، اُس نون کو شعر کے وزن کو مدّ نظر رکھتے ہوئے نون غنّہ لکھا جاتا ہے۔

Persian: Is there a nasal nuun in poetry?

مثلاً

دلِ ناداں تجھے ہؤا کیا ہے
آخر اِس درد کی دوا کیا ہے

لیکن یہ تبدیلی شاعری تک محدود نہیں۔ آپ نے اِس کا ملاحظہ نثر میں بھی کیا ہو گا۔


۔۔۔۔کہ اِس زمانے میں اقبال سا شاعر اُسے نصیب ہؤا جس کے کلام کا سکّہ ہندوستان بھر کی اُردوداں دنیا کے دلوں پر بیٹھا ہؤا ہے۔۔۔۔۔

ابھی اسکول ہی میں پڑھتے تھے کہ کلامِ موزوں زبان سے نکلنے لگا۔

اقبال کی ایک اور خصوصیّت یہ ہے کہ بایں ہمہ موزونیء طبع وہ حسبِ فرمائش شعر کہنے سے قاصر ہے۔

اِس کے مجموعے کی اشاعت کے بہت لوگ خواہاں تھے۔

اور گلدستوں کے اوراقِ پریشاں سے نکل کر ایک مجموعہء دلپزیر کی شکل میں جلوہ گر ہے۔۔۔۔

یوں تو ایسی ہزاروں مثالیں میری نظر سے گزری ہوں گی تاہم جب اِن کی ضرورت پڑی تو اتنی آسانی سے نہیں ملیں۔ مندرجہ بالا مثالیں کلیاتِ اقبال کے دیباچہ از شیخ عبدالقادر سابق مدیرِ مخزن سے ہیں۔

آپ کے خیال میں اردو نثر میں عربی اور فارسی الفاظ میں نونِ غنّہ کا استعمال کیوں رائج ہے؟
 
Last edited:
  • marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu

    بہت عمدہ سوال ہے اور اس پر پہلے بھی کچھ باتیں ہوئی تھیں۔ ڈھونڈ کے دیکھا کہ الفاظؔ صاحب نے دو ہزار تیرہ میں اس کے متعلق لڑی بنا کر سوال اٹھایا تھا جس میں فیلسوفؔ صاحب اور آپ کے علاوہ بندہ کو بھی اپنی رائے دینے کا موقع ملا تھا۔
    ملاحظہ کریں (لیکن انگریزی میں ہے):
    یعنی
    اردو کے اعتبار سے یہ اغلبًا ایک ایسا رواج ہے جس کی ابتدا شاعری اور شاعری سے آنے والے محاوروں میں ہوئی تھی اور اس رواج کو رفتہ رفتہ روزمرّہ میں مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

    چونکہ آپ نے "کیوں" پوچھا اور میں نے "کیوں کر" بتایا اس لیے تسلیم کرتا ہوں کہ اسے موجودہ سوال کا تسلّی بخش جواب نہیں کہا جا سکتا ۔
     
    Last edited:

    marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu

    آپ ہمیں اردو شعر کے بارے میں اب تک یہ بتا چکے ہیں کہ عروضی اعتبار سے پورے نون کو لفظ کے آخر میں نونِ غنّہ کی شکل دینے کا امکان موجود ہے لیکن "دریائے لطافت" کی ورق گردانی کرتے ہوئے انشا کا دیا ہوا قاعدہ پایا کہ اضافتی ترکیبوں میں پورے نون یا غنّہ نون کے اعلان کا مسئلہ صرف شعری ضرورت پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ ایسے موقعوں پر تو معلّن نون محض غلط قراد دیا گیا ہے :۔
    دریائےلطافت، انشااللہ خان انشاؔ
    ص۲۴۴ “و اعلان نون در شعر ہندی در صفت و مضاف الیہ اگر با مضاف و موصوف مذکور شوند غلط باشد۔ مثل دیدۂ گریاں و سرو گلستاں کہ اینجا اعلان نون غلط است۔ فقط.

    فارسی شعر کا ذکر بھی آیا لیکن کیا آپ نے غور کیا کہ دریائے لطافت نثر ہوتے ہوئے بھی نونِ غنّہ سے پُر ہے۔
     

    Qureshpor

    Senior Member
    Panjabi, Urdu پنجابی، اردو

    بہت عمدہ سوال ہے اور اس پر پہلے بھی کچھ باتیں ہوئی تھیں۔ ڈھونڈ کے دیکھا کہ الفاظؔ صاحب نے دو ہزار تیرہ میں اس کے متعلق لڑی بنا کر سوال اٹھایا تھا جس میں فیلسوفؔ صاحب اور آپ کے علاوہ بندہ کو بھی اپنی رائے دینے کا موقع ملا تھا۔
    ملاحظہ کریں (لیکن انگریزی میں ہے):
    یعنی
    اردو کے اعتبار سے یہ اغلبًا ایک ایسا رواج ہے جس کی ابتدا شاعری اور شاعری سے آنے والے محاوروں میں ہوئی تھی اور اس رواج کو رفتہ رفتہ روزمرّہ میں مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

    چونکہ آپ نے "کیوں" پوچھا اور میں نے "کیوں کر" بتایا اس لیے تسلیم کرتا ہوں کہ اسے موجودہ سوال کا تسلّی بخش جواب نہیں کہا جا سکتا ۔
    شکریہ مرش صاحب۔ میرے خیال میں اگر یوں، ووں، جوں کے معنی بالترتیب اِس طرح، اُس طرح اور جس طرح ہیں تو اِس منطق سے کیوں کے معنی بھی کبھی کس طرح یا کیسے ضرور ہوں گے۔
    جواب کے لئے بہت بہت شکریہ اور سابقہ لڑی کی طرف اشارے کے لئے بھی۔ وہاں میری رائے کچھ یوں تھی۔

    "With this nasalisation of Arabic and Persian words, it is quite possible that the trend has crept into prose and then speech."

    آپ کی سوچ میں بھی وزن ہے۔
     
    Last edited:

    Qureshpor

    Senior Member
    Panjabi, Urdu پنجابی، اردو

    آپ ہمیں اردو شعر کے بارے میں اب تک یہ بتا چکے ہیں کہ عروضی اعتبار سے پورے نون کو لفظ کے آخر میں نونِ غنّہ کی شکل دینے کا امکان موجود ہے لیکن "دریائے لطافت" کی ورق گردانی کرتے ہوئے انشا کا دیا ہوا قاعدہ پایا کہ اضافتی ترکیبوں میں پورے نون یا غنّہ نون کے اعلان کا مسئلہ صرف شعری ضرورت پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ ایسے موقعوں پر تو معلّن نون محض غلط قراد دیا گیا ہے :۔

    فارسی شعر کا ذکر بھی آیا لیکن کیا آپ نے غور کیا کہ دریائے لطافت نثر ہوتے ہوئے بھی نونِ غنّہ سے پُر ہے۔
    یہ بات درست ہے کہ اِس قاعدے کے مطابق اردو شاعری میں دیدہء گریان وغیرہ لکھنا غلط ہے اور اِسے دیدہء گریاں لکھنا چاہیئے۔ لیکن اِس قاعدے کی منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے اور کئی بار شاعر لوگ اِسے نظرانداز بھی کر دیتے ہیں۔
     

    marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu
    شکریہ مرش صاحب۔ میرے خیال میں اگر یوں، ووں، جوں کے معنی بالترتیب اِس طرح، اُس طرح اور جس طرح ہیں تو اِس منطق سے کیوں کے معنی بھی کبھی کس طرح یا کیسے ضرور ہوں گے۔
    جواب کے لئے بہت بہت شکریہ اور سابقہ لڑی کی طرف اشارے کے لئے بھی۔ وہاں میری رائے کچھ یوں تھی۔

    "With this nasalisation of Arabic and Persian words, it is quite possible that the trend has crept into prose and then speech."
    آپ کی سوچ میں بھی وزن ہے۔
    جواب الجواب کا بہت شکریہ قریشپور صاحب۔ لفظ ”کیوں“ کے متعلق درجِ بالا تجزیہ اور اس کے پیش کرنے کا طریقہ بےحد عمدہ ہے۔ میں اس سلسلہ کو بڑھاتے ہوئے چند اور نکات کا ذکر کرنا چاہوں گا لیکن اول اول پُرانی بات چیت کا خلاصہ یوں کرتا ہوں کہ اُس مرحلے پر آپ کی رائے کے مطابق، نونِ غنّہ کی طرف جو رجحان شعر و شاعری سے آغاز ہوا اور چونکہ نثر لکھنے والے ادیب شاعری سے نہ صرف بخوبی واقف بلکہ خود شعرا بھی ہوا کرتے تھے، نثر میں داخل ہو کر زباں زدِ خاص و عام ہوا ہے۔ میری رائے میں ”غُنّائیت“ شاعری کا حصہ ہو کر روزمرہ بول چال میں بھی برتی جانے لگی جس کے نتیجہ میں ”غُنّائیت“ نثر میں بھی لکھی جانے لگی ہے۔ بس اتنا اختلاف ہے کہ میرے خیال میں اردو شاعری کو نثر پر سبقت حاصل ہے اور میں غالبًا اس لحاظ سے بات کر رہا تھا کہ نثری تصانیف روزمرّہ محاورے کی عکّاسی کرتی ہیں۔
    ہر صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کب ہونے لگا اور اُس زمانے میں نثر کا، یا شعر کا رواج زیادہ تھا۔ البتّہ عین ممکن ہے کہ ادبی نثر درکنار، اردو اخباروں اور رسالوں کی اشاعت کاری، آپ کے تجویز کردہ راستے کے حق میں ہو۔

    چنانچہ اس سوال پر مزید سوال پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ فورم کے دوستوں بالخصوص اردودانوں کو یاد ہو گا، قریشپور صاحب نے اردو املا کے متعلق کئی انکشافی قسم کے مراسلے بعنوان "اردو سپیلنگ کنوینشنز" ارسال کر چکے ہیں جن میں سے ایک لڑی میں نون غنّہ لکھنے نہ لکھنے کا بیان ہوا تھا۔

    فارسی و عربی لفظوں میں ”غُنّائیت“ کی رونمائی کے وقت کا اندازہ پانے کے لیے دیکھا جا سکتا ہے کہ نونِ غنّہ لکھنے کے لیے بےنقطہ نون "ں" کی ایجاد کب ہوئی اور اس کا استعمال کب پروان چڑھا۔

    مجھے اس کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق ملے جو آپ کی خدمت میں نیچے نقل کرتا ہوں:
    ۔۔۔۔
    ص ۱۹۹تا۲۰۰
    نقطوں کے سلسلے میں ’نون‘ اور ’نونِ غُنّہ‘ کا ذکر بھی بیجا نہ ہو گا۔ اردو صوتیات میں /ن/ کی آواز ایک انفی مصمتہ ہے۔ اسے تحریر میں ظاہر کرنے کے لیے ’ن‘ کا سہارا لیا جاتا ہے، جو اردو کا ایک مستقل حرف ہے۔ ’ن‘ خواہ مفرد استعمال کیا جائے یا لفظ کی ابتدائی، درمیانی اور آخری حالتوں میں واقع ہو، یہ ہمیشہ نقطے کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ نونِ غُنّہ، جس سے مصوتوں کی انفیت (غُنّائیت) ظاہر کی جاتی ہے جب مفرد یا لفظ کے آخر میں آتا ہے تو اس میں نقطہ نہیں بنایا جاتا۔ لیکن اردو کی قدیم تحریروں اور مخطوطوں میں ابتدا ہی سے نونِ غُنّہ میں بھی نقطے کا استعمال پایا جاتا ہے۔ مثنوی «کدم راؤ پدم راؤ» اور «ابراہیم نامہ» سے لے کر «کربل کتھا» اور «قصۂ مہر افروز و دلبر» تک کے تمام مخطوطات میں، نیز غالبؔ اور ان کے ہم عصروں کی تحریروں میں نونِ غُنّہ میں نقطے کا استعمال یکساں طور پر پایا جاتا ہے، مثلاً غالبؔ نے اپنی تحریروں میں جہاں کہیں بھی ’میں‘، ’ہوں‘، ’وہاں‘، ’یہاں‘، ’خاں‘، ’جاں‘، ’نہیں‘ وغیرہ الفاظ لکھے ہیں، نونِ غُنّہ میں پابندی کے ساتھ نقطے بنانے کا التزام کیا ہے۔
    نواب یوسف علی خاں اور نواب کلب علی خاں کے نام اپنے بیشتر مکاتیب کے آخر میں غالبؔ نے ذیل کا شعر درج کیا ہے:

    تم سلامت رہو ہزار برس
    ہر برس کے ہون دن پچاس ہزار

    اس شعر کے مصرعۂ ثانی میں ’ہوں‘ میں نونِ غُنّہ پایا جاتا ہے، لیکن غالبؔ نے اسے نقطے کے ساتھ ہر جگہ ”ہون“ لکھا ہے۔ اسی طرح اپنے بعض خطوط میں غالبؔ نے یہ مصرعہ درج کیا ہے:

    نہ کہون آپ سے تو کس سے کہون

    یہاں بھی ’کہوں‘ کے نونِ غُنّہ میں نقطہ موجود ہے، یعنی ہر جگہ ”کہون“ لکھا گیا ہے۔ غالبؔ کے ایک خط کا اقتباس یہاں بجنسہٖ نقل کیا جاتا ہے جو انھوں نے ۲۷؍جولائی ۱۸۶۶ء کو لکھا تھا:

    “مین ہزار بارہ سو روپئي کا قرض رکہتا ہون چاہتا ہون کہ میری زندگیمین ادا ہو جائے۔”

    اس اقتباس میں ”مین“ (مَیں)، ”ہون“ (ہوٗں)، ”مین“ (میں) وغیرہ الفاظ میں باقاعدگی کے ساتھ نقطے لگائے گئے ہیں۔

    نونِ غُنّہ میں نقطے بنانے کا رواج بیسویں صدی کے وسط تک پایا جاتا ہے۔ جناب رشید حسن خاں نے ’اردو املا‘ (دہلی، ۱۹۷۴ء) میں مضامینِ شبلی کی چھٹی جلد (۱۹۵۱ء) کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”اس میں کاتب صاحب نے اکثر مقامات پر لفظوں کے آخر میں آنے والے نونِ غُنّہ میں اہتمام کے ساتھ نقطے لگائے ہیں“۔
    [ اردو کی لسانی تشکیل، مرزا خلیل احمد بیگ، علیگڑھ ۱۹۸۵ء]
     
    Last edited:

    Qureshpor

    Senior Member
    Panjabi, Urdu پنجابی، اردو
    !حسبِ معمول آپ کے مفصل جواب کے کیا کہنے

    نونِ غنہّ اردو نثر میں کیوں اور کیونکر آئی، اِس کا ہم اٹکل پَچُّو ہی لگا سکتے ہیں لیکن میرے خیال میں وجوہات وہی ہوں گی جن کا ہم دونوں ذکر کر رہے ہیں۔ یعنی۔۔

    ایک۔ یقیناً اردو شعر اردو نثر پر سبقت رکھتا ہے اور مجھے آپ کی اِس بات سے کوئی اختلاف نہیں۔ بنابرایں شعراء اور دیگر ادباء نے اپنی نثری تحریروں میں غِنائیّت لانے کے لئے غُنّائیّت کو بروئےکار لایا ہوگا۔ جاں بحق کی آواز بمقابل جان بحق کانوں کو زیادہ بھاتی ہے۔ اِسی سوچ کو ایک اور لڑی میں مَیں نے اِن الفاظ میں ظاہر کیا تھا۔

    Urdu Spelling Conventions 4 : The "nuun-i-Gunnah"

    "No, I don't personally think this is in any way vulgar. On the contrary, I would say that the nasalisation in Urdu poetry of Persian and Arabic words has been carried into Urdu prose, whereby the prose has a "taste" of poetry or a link with poetry."

    دو۔ ممکن ہے کہ اِس عمل کی ابتدا فارسی محاورات یا بالفاظِ دیگر فارسی اقتباسات سے ہوئی ہو خواہ شعری ہوں یا نثری۔

    تین۔ جیسا کہ آپ نے اوپر فرمایا ہے، کتابوںکے اوراق سے نکل کر یہ غُنّائیّت اردو بولنے والوں کی زبانوں میں آ بسی جس سے نہ صرف غِنائیّت میں اضافہ ہؤا بلکہ منہ میں شیرینی بھی بڑھی۔ ہاں اِس کا ایک منفی ردِّ عمل ضرور ہؤا کہ دُرّہائے دہن کو نقصان پہنچنے لگا اور دندان ساز کی ضرورت ناگزیر ہو گئی۔:)

    چار۔ اِس غُنّائیّت کا بصری اظہار کب کیا جانے لگا، یہ معلوم کرنے کے لئے آپ کو ایک اور مقام پر جانا پرے گا۔
     
    < Previous | Next >
    Top