Urdu: مصرع اور مصرعے

Qureshpor

Senior Member
Panjabi, Urdu پنجابی، اردو
دوستانِ گرامی۔

اردو عبارت میں وہ الفاظ جو ہائے ہوّز سے لکھے جاتے ہیں، جب وہ مثلاً کا کے کی کے ساتھ حالتِ اضافت میں ہوں تو اُن کے آگے بڑی ی کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر،

لفافہ ۔۔۔۔۔ لفافے کا

لیکن بعض اوقات ایسے الفاظ تحریر میں یوں کے توں رہتے ہیں مگر پڑھنے میں بڑی ی بڑھا دی جاتی ہے۔

ایک مثال پنڈت جواہرلال نہرو کی تقریر سے لیتے ہیں۔

ہر ایک ہندوستانی کو اِس آزادی کا برابر کا حصّہ دار ہونا چاہیئے۔

پنڈت جواہرلال نہرو نے تقریر کرتے وقت یہ جُملہ یوں پڑھا۔

ہر ایک ہندوساتانی کو اِس آزادی کا برابر کا حصّے دار ہونا چاہیئے۔

سوال۔ اگر واحد کے لئے لفظ مصرع ہے تواُس کی حالتِ اضافی مصرعے ہو گی۔ مصرعے کو رومن اردو میں کیسے لکھا جائے گا تا کہ عین بھی واضح رہے؟
 
Last edited:
  • marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu
    دیکھیے، اوپر دی گئی مثالوں کا آپ کے سوال پر اطلاق کیونکر ہو گا "اگر واحد کے لیے لفظ مصرع ہے"۔ اس صورت میں تو ہائے ہوّز ہے ہی کہاں؟

    دوسری بات تعجب خیز یہ ہے کہ آپ نے یہ سوال پیش کرنے کے لیے اردو زبان مع اس کے رسم الخط اختیار کر لی ہے جبکہ سوال رومن اردو سے تعلق رکھتا ہے۔

    ثالثًا، کیا پنڈت نہرو صاحب نے لفظ "ہندستانی"/"ہندوستانی" کو "ہندوﺳتانی" ادا کیا تھا؟

    یہاں رومن اردو کے دو تین طریقوں کا ذکر آیا ہے: Roman Urdu - Wikipedia
     
    Last edited:

    Qureshpor

    Senior Member
    Panjabi, Urdu پنجابی، اردو
    مرش صاحب، ٹائپو کے علاوہ آپ کے دونوں اعتراضات بجا ہیں۔ نشان دہی کے لئے شکریہ۔ میں نے اُس کی تصحیح کر دی ہے۔

    میرا بات چھیڑنے کا مقصد در اصل یہ تھا کہ جس طرح ایک مذکّر اسم جس کے آخر میں ہائے ہوّز ہو، اُس میں حالتِ اضافی میں ہائے ہوّز غائب ہو جاتی ہے اور بڑی ی کا اضافہ ہو جاتا ہے مگر جب حرفِ عین سے ختم ہونے والا مذکّر لفظ، مثلاً مصرع حالتِ اضافت میں آتا ہے تو عین کی شمولیت برقرار رہتی ہے اور بڑی ی کا اضافہ ایک بار پھر ہوتا ہے۔

    دوسرے اعتراض کے جواب میں عرض یہ ہے کہ کیا اردو رسم الخط تحریر میں رومن اردو تحریر سے متعلقہ سوال پوچھنے میں کوئی ہرج ہے؟

    الغرض، مصرعے کو آپ لاطینی رسم الخط میں کیسے لکھیں گے؟
     

    marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu
    قریشپور صاحب آئیے دیکھتے ہیں اس مسئلہ/ -ے کا تجزیہ کرتے ہوئے کس نتیجہ پر پہنچتے ہیں۔
    جب ہم اردو رسم الخط میں اردو لکھتے ہیں تو اسمائے مذکر واحد کو حالتِ اضافی میں خواہ جوں کا توں چھوڑ کر لکھ دیتے ہیں یا کبھی اس کے آخری ہائےہوّز گرا کر اس کی جگہ بڑی ی "ے" لگا دیتے ہیں۔ رومن اردو کو اس ضمن میں مختلف ہونا یا نہیں ہونا چاہیے یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔

    گزارش میری یہ ہے کہ چونکہ حرف عین حذف نہیں ہوتا اس لیے ہائے ہوز سے مشابہہ یہاں بیجا ہے۔ بات کا نچوڑ ہے لاطینی رسم الخط میں حرفِ عین کو کس طرح ادا کیا جا سکتا ہے۔

    عربی زبان کی نقلِ حرفی سے متعلقہ معلومات یہاں موجود ہیں:
    Ayin - Wikipedia
    ع ʻayn | ʕ | ʻ * | ʿ | ʽ *| ʿ | ` | 3

    * ^4 Neither standard defines which code point to use for hamzah and ʻayn. Appropriate Unicode points would be modifier letter apostrophe 〈ʼ〉 and modifier letter turned comma 〈ʻ〉 (for the UNGEGN and BGN/PCGN) or modifier letter reversed comma 〈ʽ〉 (for the Wehr and Survey of Egypt System (SES)), all of which Unicode defines as letters. Often right and left single quotation marks 〈’〉, 〈‘〉 are used instead, but Unicode defines those as punctuation marks, and they can cause compatibility issues. The glottal stop (hamzah) in these romanizations isn't written word-initially.

    لیکن اگر لفظ "مصرعہ" ہو تو بات دوسری ہے! مندرجۂ ذیل اقتباس اسی اعتبار سے پیش کیے دیتا ہوں:
    اُمید کرتا ہوں قدرے کام آئے گا۔ شمس الرحمٰن فاروقی کی لغاتِ روزمرہ سے ہے:

    "
    مصرعہ________"مصرع" اور "مصرعہ" ہم معنی ہیں۔ "مصرع" کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ عربی ہے۔ لیکن "مصرعہ" کہاں سے آیا، یہ نہیں کھلتا۔ بظاہر اسے "مصرع" کی تانیث ہونا چاہئے لیکن تانیث کی ضرورت کوئی معلوم نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ یہاں تاے وحدت ہو لیکن یہ بھی ہے کہ عربی کے مقبول لغات، اور فارسی کے کسی مستند لغت میں "مصرعہ" کسی بھی معنی میں نہیں ملتا۔ غالب نے لکھا ہے: "تقدیم و تاخیر مصرعتین کر کے رہنے دو" (بنام جنون بریلوی، مورخہ ۲۴ اگست، ۱۸۶۴)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ "مصرعہ" کو غالب درست سمجھتے تھے اور اسے عربی قرار دیتے تھے، کیونکہ انھوں نے اس کی جمع عربی تثنیہ کے قاعدے سے "مصرتین" بنائی ہے۔ "آنند راج" کے ایرانی ایڈیشن میں خان آرزو کا مندرجۂ ذیل شعر "مصرع" کی سند میں دیا ہے، اور "مصرع" کو "مصرعہ" لکھا ہے ؎

    گر شود فوارہ نخل مصرعۂ ما دور نیست____________تخم اشکے در زمین شعر می کاریم ما

    اس سے گمان گذرتا ہے کہ "مصرع" اور "مصرعہ" دونوں کے تلفظ میں خان آرزو نے کوئی فرق نہیں کیا ہے لیکن یہی شعر "بہار عجم" میں بھی ہے اور وہاں "مصرعہ" نہیں بلکہ محض "مصرع" لکھا ہے۔ شیکسپیئر کے لغت میں "مصرعہ" موجود ہے، اور اسے عربی بتایا گیا ہے۔ اسٹائنگاس (Steingass) نے بھی اسے درج کیا ہے، لیکن اسے "عربی سے ماخوذ" (یعنی ٹکسالی عربی میں نہیں) لکھا ہے۔ ٹامپسن نے صرف "مصراع" لکھا ہے، گویا وہ "مصرع؍مصرعہ" کے وجود سے بے خبر ہے۔ "نور اللغات" اور "غیاث" اور "آنند راج" کسی میں "مصرعہ" درج نہیں، ہا ان لغات کی عبارت کے اندر لفظ "مصراع" کئی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔ پلیٹس (Platts) نے "مصرعہ" درج کیا ہے اور اسے فارسی بتایا ہے۔ یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ اغلب یہ ہے کہ فارسی والوں نے "مصرع" پر ہاے ہوز کا اضافہ کر لیا ہے لیکن معنی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

    دوسرا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ "مصرع" ہو یا "مصرعہ"، اردو میں دونوں کا تلفظ عین کے بغیر (مصرہ) ہے۔ یعنی عین کی جگہ چھوٹی ہ بولتے ہیں، اور چھوٹی ہ کا تلفظ ہاے مختفی کی طرح کرتے ہیں۔ جمع، امالہ، اور مجرور حالت میں بھی عین سنائی نہیں دیتا۔ پرانے لوگ شعر میں اسے بغیر اظہار عین باندھ لیتے تھے، سودا ؎

    مصرعوں میں اگر پشۂ معنی ہو قلم بند___________زعم اپنے میں سمجھے ہیں کیا پیل کو زنجیر

    یہاں "مصرعوں" کا وزن فع لن یا بر وزن "مصروں۔ ہے۔ اگر بعض دیگر نسخوں کی قرأت اختیار کر کے پہلا لفظ "مصرع" لکھیں تو اور بات ہے، کہ اس طرح عین کا اظہار ہو جاتا ہے، لیکن روانی بے طرح مجروح ہوتی ہے، یا پھر یہاں "مصرعے" لکھا جائے تو بات وہی رہتی ہے جو "مصرعوں" لکھنے میں تھی، کہ عین ساقط ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ بعض حالتوں میں "مصرَع" بفتح سوم کی جگہ "مصرِع" یعنی "مصرے" بکسر عین بولا جاتا ہے، مثلاً:

    اس مصرع میں ایک حرف زائد ہے۔
    اس کے مصرع کی خوبی میں کلام نہیں۔
    میرے مصرع میں کوئی عیب نہیں۔
    مصرع کی ساخت بگڑ گئی۔

    وغیرہ۔ ایسے تمام حالات میں لفظ "مصرع" کا تلفظ "مصرے" ہو گا۔ یعنی اردو والوں نے "مصرع" کے عین کو ہاے ہوز فرض کیا اور اس پر امالہ جاری کر دیا، جیسے پردہ؍پردے؛ کپڑا؍کپڑے؛ کمرہ؍کمرے

    سچ ہے زبان کسی کی پابند نہیں، صرف اپنی محکوم ہوتی ہے۔
    حاصل کلام یہ کہ "مصرعہ" غالباً فارسی والوں کا بنایا ہوا لفظ ہے۔ اردو میں اس کا استعمال اب بہت کم ہے۔ لیکن "مصرع" ہو یا "مصرعہ"، ان کے تلفظ میں عین کا اظہار ہمارے یہاں نہیں ہوتا، اور یہی ٹھیک بھی ہے۔
    " (شمس الرحمٰن فاروقی، لغات روزمرہ)
     
    Last edited:

    Qureshpor

    Senior Member
    Panjabi, Urdu پنجابی، اردو
    متعلقہ موضوع:
    Urdu: Transliteration of Urdu plural words with ع

    کیا miSra3e یا miSr3e مناسب ہوں گے آپ کی رائے میں؟
    الفاظ صاحب، اِس ربط سے ایک پرانی لڑی کی یاد دہانی کے لئے میں آپ کا شکرگزار ہوں۔

    یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
    چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

    1909-1988 اختر انصاری

    افسوس صد افسوس، یہاں حالت کچھ ایسی ہے کہ حافظہ کچھ زیادہ رہا ہی نہیں چھننے کو۔

    جو حل شمس الرّحمٰن فاروقی صاحب کی کتاب کے توسط مرش صاحب نے پیش کیا ہے، لگتا ہے یہ بندہء حقیر و پُرتقصیر اپنی پوسٹ نمبر 5 میں اِسی نتیجے پر پہلے ہی پہنچ گیا تھا۔

    کی تجویز بی پی صاحب نے بھی پیش کی تھی۔ لیکن miSra3e
    کا زبان سے نکلنا نہایت مشکل ہو گا۔ miSr3e اب ایک دانشمند کے قلم کے توسّط سے پتہ چلا ہے کہ شاعر لوگ لکھتے تو مصرعے ہیں لیکن تلفّظ میں ع کو حذف کر دیتے ہیں۔ میرے خیال میں
     
    Last edited:

    Qureshpor

    Senior Member
    Panjabi, Urdu پنجابی، اردو
    قریشپور صاحب آئیے دیکھتے ہیں اس مسئلہ/ -ے کا تجزیہ کرتے ہوئے کس نتیجہ پر پہنچتے ہیں۔
    جب ہم اردو رسم الخط میں اردو لکھتے ہیں تو اسمائے مذکر واحد کو حالتِ اضافی میں خواہ جوں کا توں چھوڑ کر لکھ دیتے ہیں یا کبھی اس کے آخری ہائےہوّز گرا کر اس کی جگہ بڑی ی "ے" لگا دیتے ہیں۔ رومن اردو کو اس ضمن میں مختلف ہونا یا نہیں ہونا چاہیے یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔

    گزارش میری یہ ہے کہ چونکہ حرف عین حذف نہیں ہوتا اس لیے ہائے ہوز سے مشابہہ یہاں بیجا ہے۔ بات کی نچوڑ ہے لاطینی رسم الخط میں حرفِ عین کو کس طرح ادا کیا جا سکتا ہے۔

    عربی زبان کی نقلِ حرفی سے متعلقہ معلومات یہاں موجود ہیں:
    Ayin - Wikipedia
    ع ʻayn | ʕ | ʻ * | ʿ | ʽ *| ʿ | ` | 3

    * ^4 Neither standard defines which code point to use for hamzah and ʻayn. Appropriate Unicode points would be modifier letter apostrophe 〈ʼ〉 and modifier letter turned comma 〈ʻ〉 (for the UNGEGN and BGN/PCGN) or modifier letter reversed comma 〈ʽ〉 (for the Wehr and Survey of Egypt System (SES)), all of which Unicode defines as letters. Often right and left single quotation marks 〈’〉, 〈‘〉 are used instead, but Unicode defines those as punctuation marks, and they can cause compatibility issues. The glottal stop (hamzah) in these romanizations isn't written word-initially.

    لیکن اگر لفظ "مصرعہ" ہو تو بات دوسری ہے! مندرجۂ ذیل اقتباس اسی اعتبار سے پیش کیے دیتا ہوں:
    اُمید کرتا ہوں قدرے کام آئے گا۔ شمس الرحمٰن فاروقی کی لغاتِ روزمرہ سے ہے:

    "
    مصرعہ________"مصرع" اور "مصرعہ" ہم معنی ہیں۔ "مصرع" کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ عربی ہے۔ لیکن "مصرعہ" کہاں سے آیا، یہ نہیں کھلتا۔ بظاہر اسے "مصرع" کی تانیث ہونا چاہئے لیکن تانیث کی ضرورت کوئی معلوم نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ یہاں تاے وحدت ہو لیکن یہ بھی ہے کہ عربی کے مقبول لغات، اور فارسی کے کسی مستند لغت میں "مصرعہ" کسی بھی معنی میں نہیں ملتا۔ غالب نے لکھا ہے: "تقدیم و تاخیر مصرعتین کر کے رہنے دو" (بنام جنون بریلوی، مورخہ ۲۴ اگست، ۱۸۶۴)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ "مصرعہ" کو غالب درست سمجھتے تھے اور اسے عربی قرار دیتے تھے، کیونکہ انھوں نے اس کی جمع عربی تثنیہ کے قاعدے سے "مصرتین" بنائی ہے۔ "آنند راج" کے ایرانی ایڈیشن میں خان آرزو کا مندرجۂ ذیل شعر "مصرع" کی سند میں دیا ہے، اور "مصرع" کو "مصرعہ" لکھا ہے ؎

    گر شود فوارہ نخل مصرعۂ ما دور نیست____________تخم اشکے در زمین شعر می کاریم ما

    اس سے گمان گذرتا ہے کہ "مصرع" اور "مصرعہ" دونوں کے تلفظ میں خان آرزو نے کوئی فرق نہیں کیا ہے لیکن یہی شعر "بہار عجم" میں بھی ہے اور وہاں "مصرعہ" نہیں بلکہ محض "مصرع" لکھا ہے۔ شیکسپیئر کے لغت میں "مصرعہ" موجود ہے، اور اسے عربی بتایا گیا ہے۔ اسٹائنگاس (Steingass) نے بھی اسے درج کیا ہے، لیکن اسے "عربی سے ماخوذ" (یعنی ٹکسالی عربی میں نہیں) لکھا ہے۔ ٹامپسن نے صرف "مصراع" لکھا ہے، گویا وہ "مصرع؍مصرعہ" کے وجود سے بے خبر ہے۔ "نور اللغات" اور "غیاث" اور "آنند راج" کسی میں "مصرعہ" درج نہیں، ہا ان لغات کی عبارت کے اندر لفظ "مصراع" کئی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔ پلیٹس (Platts) نے "مصرعہ" درج کیا ہے اور اسے فارسی بتایا ہے۔ یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ اغلب یہ ہے کہ فارسی والوں نے "مصرع" پر ہاے ہوز کا اضافہ کر لیا ہے لیکن معنی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

    دوسرا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ "مصرع" ہو یا "مصرعہ"، اردو میں دونوں کا تلفظ عین کے بغیر (مصرہ) ہے۔ یعنی عین کی جگہ چھوٹی ہ بولتے ہیں، اور چھوٹی ہ کا تلفظ ہاے مختفی کی طرح کرتے ہیں۔ جمع، امالہ، اور مجرور حالت میں بھی عین سنائی نہیں دیتا۔ پرانے لوگ شعر میں اسے بغیر اظہار عین باندھ لیتے تھے، سودا ؎

    مصرعوں میں اگر پشۂ معنی ہو قلم بند___________زعم اپنے میں سمجھے ہیں کیا پیل کو زنجیر

    یہاں "مصرعوں" کا وزن فع لن یا بر وزن "مصروں۔ ہے۔ اگر بعض دیگر نسخوں کی قرأت اختیار کر کے پہلا لفظ "مصرع" لکھیں تو اور بات ہے، کہ اس طرح عین کا اظہار ہو جاتا ہے، لیکن روانی بے طرح مجروح ہوتی ہے، یا پھر یہاں "مصرعے" لکھا جائے تو بات وہی رہتی ہے جو "مصرعوں" لکھنے میں تھی، کہ عین ساقط ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ بعض حالتوں میں "مصرَع" بفتح سوم کی جگہ "مصرِع" یعنی "مصرے" بکسر عین بولا جاتا ہے، مثلاً:

    اس مصرع میں ایک حرف زائد ہے۔
    اس کے مصرع کی خوبی میں کلام نہیں۔
    میرے مصرع میں کوئی عیب نہیں۔
    مصرع کی ساخت بگڑ گئی۔

    وغیرہ۔ ایسے تمام حالات میں لفظ "مصرع" کا تلفظ "مصرے" ہو گا۔ یعنی اردو والوں نے "مصرع" کے عین کو ہاے ہوز فرض کیا اور اس پر امالہ جاری کر دیا، جیسے پردہ؍پردے؛ کپڑا؍کپڑے؛ کمرہ؍کمرے

    سچ ہے زبان کسی کی پابند نہیں، صرف اپنی محکوم ہوتی ہے۔
    حاصل کلام یہ کہ "مصرعہ" غالباً فارسی والوں کا بنایا ہوا لفظ ہے۔ اردو میں اس کا استعمال اب بہت کم ہے۔ لیکن "مصرع" ہو یا "مصرعہ"، ان کے تلفظ میں عین کا اظہار ہمارے یہاں نہیں ہوتا، اور یہی ٹھیک بھی ہے۔
    " (شمس الرحمٰن فاروقی، لغات روزمرہ)
    محترم مرش صاحب۔ اتنی تفصیل سے موضوعِ بحث کی وضاحت کے لئے میں آپ کا ممنون ہوں۔ بات کا نچوڑ یہ ہؤا کہ۔۔

    مِصرَع = مصراع = مصرعہ

    مصرعے = مصرے

    مصرعوں = مصروں

    بہت بہت شکریہ۔
     
    < Previous | Next >
    Top