Urdu, Hindi: ghazal's titles

< Previous | Next >


Senior Member
Castellano de Argentina

Is it customary to title ghazals using their full first line?

In Bollywood movies, I observe that songs are often titled with the first few letters of the lyrics, even if they do not make complete grammatical sense (e.g. "aa chal ki(h) tujhe ...", "us mulk kii sarhad ko ...", etc.).

But if the song is clearly a musicalized poem in ghazal form, usually the full line is used as a title, e.g. ("hai bas ki(h) har ik un ke ishaare meN nishaaN aur", "jab se tuune mujhe diivaanaa banaa rakhaa hai", etc).

The site Rekhta.org, for example, always uses the full first line (example).
Also, this seems to happen even when maybe another couplet, later in the the body of the ghazal, is the most remembered or appreciated.

Is this an established practice, or simply an ad-hoc practical way, adopted by Rekhta, not to confuse so many works that might start with the same first few words?

To ask it differently: would someone remotely familiar with Ghalib speak about "hai bas-ki(h) har ik un ke" or about "hai bas ki(h) har ik un ke ishaare meN nishaan aur"?
Last edited:
  • Alfaaz

    Senior Member
    A few relevant articles and quotes:

    غزل اور نظم میں فرق
    غزل اور نظم میں بنیادی دو فرق ہیں:

    غزل کا ہر شعر ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے اور فی نفسہٖ مکمل ہوتا ہے ۔
    غزل کا کوئی عنوان نہیں ہوتا جبکہ نظم اپنے موضوع کے موافق باقاعدہ عنوان رکھتی ہے ۔
    عنوانی غزل
    پہلے ہم غزل کو عنوان نہ دینے والوں کی رائے پیش کرتے ہیں:
    ۱۔ غزل کو عنوان نہ دینے کی سب سے بڑی وجہ اس کا اپنا انداز ہے جس کا موضوع، مرکزی خیال یاتھیم (theme) خاص نہ ہونا ہے۔ غزل کا انداز یہ ہے کہ اس کا ہر شعر ایک علیحدہ موضوع رکھتا ہے، جب اس کے موضوعات لا محدود یا غیر محدود یا غیر مخصوص ہیں تو پھر اسے عنوان کیا دیا جائے۔ عنوان تو اس وقت موزوں لگتا ہے جب ساری غزل اس عنوان کی چھتری کے اندر اندر آ رہی ہو یا کم از کم اس کو چھو ضرور رہی ہو۔
    ۲۔ دوسری بڑی دلیل غزل کو عنوان نہ دینے کے حق میں یہ ہے کہ اردو غزل کی روایت میں اس کو بلا عنوان رکھنا ہی رہا ہے۔ غزل کو عنوان دینا روایت سے بغاوت ہے جو کہ اچھا شگون نہیں ہے۔
    ۳۔ عنوان دینے سے غزل کے موضوعات محدود ہونے کا خدشہ ہے اس سے اس کے جاذبیت و آفاقیت میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جو کہ کسی طرح سے بھی قابلِ تائید نہیں ہے۔
    ۴۔ قاری جب عنوان والی غزل کا مطالعہ کرے گا تو اس کاخیال ہو گا کہ ساری غزل اسی عنوان کے تابع ہو گی اور جب خیال اس عنوان کی چار دیواری سے باہر اچھل جائے گا تو قاری اور سامع کی پریشانی اس کاا دبی ذوق متاثر کرے گی۔ جو کہ اردو غزل کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
    ۵۔ اردو غزل کو عنوان دینے سے ایک یہ مسئلہ بھی پیدا ہونے کا احتما ل ہے کہ نظم اور غزل کا امتیاز ختم ہو جائے گا۔ دنیا کے زیادہ تو لٹریچروں میں نظم ہی چھائی ہوئے ہے تو اردو ادب میں بھی عنوان کا دوپٹہ اوڑھ کر ہر غزل، نظم ہی بن جائے گی اور اردو ادب ایک عظیم صنف سے محروم ہو جائے۔
    ۶۔ جس کسی نے عنوان والی غزل لکھنی ہے وہ سیدھی نظم ہی لکھ لے اور اپنے جذبات کی تسکین کر لے، غزل کو چھیڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
    ۷۔ دنیا کے اکثر ادب اپنی اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہیں اس لئے ہمیں بھی اپنی غزل کی روایت برقرار رکھنی چاہیئے۔

    مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو غزل کو عنوان دینے کی کوئی ضرورت یا صورت نظر نہیں آتی۔
    اُردو میں غزلِ مسلسل کی روایت اور فن


    Senior Member
    Castellano de Argentina
    OK, so the answer is:
    It is a non-issue, because giving a title to a ghazal goes against the very nature of the genre.
    It would turn it into a mere subject-specific "nizam" (poetry), and associating a given ghazal with a given title would evoke the wrong sensations on the listener.

    Hence, what Rekhta does is a simple cataloguing device.


    Senior Member
    Castellano de Argentina
    I was thinking that, in a way, this would also explain why even modern Hindustani songs so often have seemingly incomplete/nonsensical titles grammar-wise. As if assignment of titles were something done but only reluctantly, for purely practical purposes.
    Thanks, @Alfaaz!
    < Previous | Next >