Urdu: proper diacritic for homorganic nasals of retroflexes

MonsieurGonzalito

Senior Member
Castellano de Argentina
Friends,

I noticed that the Urdu Lughat uses nuun Ghunnah with ◌٘ to mark the homorganic nasal sound, when it precedes a velar (ک گ ) or a palatal (ج ز) consonant.

For example:


shaNkar
شَن٘کَر​
aNgrezii
اَن٘گْریزی​
uuNchaa
اُون٘چا​
raNj
رَن٘ج​

however, when the nasal sound precedes a retroflex, I see some inconsistency:
- sometimes a jazm seems to be used
- sometimes a jazm in combination with the Ghunnah sign seems to be used.


aaNRTaaاَنْٹا
uuNRTniiاُوْن٘ٹنی
kaNRTakکَنْٹَک

If one wants to be really thorough, what is the proper sign to put over a nuun when it is the first letter of a nasal-retroflex ligature?

Thanks in advance for any help.
 
  • marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu
    Hi,

    حرف "ن" کا تعارف

    (شان الحقیٰ)
    جس آواز کو ہم حرف "ن" سے تحریر کرتے ہیں وہ ایک حُنکی صوتیہ ہے جو زبان کی نوک کو تالُو سے چھو کر ادا کیا جاتا ہے۔ اس کا مخرج [ د، ڈ، ر، ل ] سے قریب تالُو کے گڑھے یا قَعر کا اگلا کنارہ ہے۔ یہ آواز دنیا کی ہر زبان میں موجود ہے۔ اس میں تھوڑی بہت غنائیت ضرور ہوتی ہے، خصوصاً جبکہ سانس اِسے ادا کرتے وقت ناک کی طرف سے خارج ہو۔ بعض صورتوں میں خفیف، جیسے [ نَبات، نَو، نار ] وغیرہ کے ادا کرنے میں، اور اکثر خاصی واضح، جیسے [ چاند، ﭘﻨٛجاب ، نِیم، اِنکار، اَنفاس ] وغیرہ میں۔ یہ اِس پر بھی موقوف ہوتا ہے کہ اِس کے بعد کون‌سا صوتیہ آتا ہے۔ بعض اوقات ہم "ن" کی کشیدہ آواز میں بھی عادتاً غنائیت پیدا کر دیتے ہیں جیسے [ آنا، جانا، ہونا ] وغیرہ میں "نا" کی آواز [ نالہ، ناروا ] وغیرہ سے مختلف، غنائیت‌‌آمیز ہوتی ہے۔ آواز کا تجزیہ کرنے والے آلات اس فرق کو تاڑ لیتے ہیں۔ جوش صاحب "ماموں" کو "مان٘موں" ہی لکھتے تھے، غالبًا اس خیال سے کہ اِس کو "ماں" سے نسبت ہو گی، گو یہ درست نہیں۔ اِسی طرح اگر "ن" ساکن یا مشدّد ہو تب بھی اس میں غنائیت یا گُنگُناہٹ خاصی واضح ہوتی ہے جیسے[ آن، بان، جان ] یا [ ج٘نَت، ع٘نَاب، ط٘نَاز ] وغیرہ میں۔

    اردو میں "ن" حرفِ صحیح کے طور پر ایک نقطے کے ساتھ لکھا جاتا ہے اور بطورِ نونِ غنّہ بےنقط؛ یا اگر لفظ کے بیچ میں آئے تو الٹے جزم کے ساتھ اس کی وضاحت کی جا سکتی ہے، یعنی الٹا جزم غنہ کی علامت کے طور پر مقرر ہے اگرچہ عام طور پر لکھنے میں نہیں آتا۔ ہمارے طریقِ املا میں حرف "ن" دیوناگری کے کئی حروف کا بدل ہے مختلف صوتوں میں اس کا مخرج اور ادا کرنے کا طریقہ اگلے صوتیے کی نسبت سے کچھ نہ کچھ بدل جاتا ہے۔ دیوناگری کی لِپی (رسم الخط) میں اس نازک فرق کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ لفظ کے شروع میں یا [ ت، تھ، د، دھ ] سے پہلے آنے والا سنسکرت کا न ہمارے "ن" بطورِ حرفِ صحیح کا مثل اور ہم‌‌آواز ہے۔ [ پ، پھ، ب، بھ ] سے پہلے آنے والی غنائی آواز دیوناگری میں म سے ظاہر کی جاتی ہے جو ہمارے حرف "م" کا ہم‌‌آواز ہے۔ اس طرح غنائیت کو ظاہر کرنے کے لیے دیوناگری میں پانچ حروف آتے ہیں۔ اس کے علاوہ حرف کے اوپر ایک بِندی سے بھی غنہ کا کام لیا جاتا ہے۔ ایک گیت کے بول ہیں :​
    سجن لاگی توری لگن من ماں​
    اس کی ادائیگی پر غور کریں تو مغنّیہ کی آواز میں [ لگن ] کے "ن" کی آواز " من " کی آواز سے مختلف سنائی دے گی۔ غنائیت کے اس نازک فرق کو سنسکرت املا میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔

    جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا اردو میں حرف "ن" کی دو قسمیں ہیں:۔ نونِ صحیح بالاعلان، اور نونِ غنّہ۔ اگر لفظ کے آخر میں آئے یا علاحدہ لکھا جائے، یعنی کسی دوسرے حرف کے ساتھ جڑا ہوا نہ ہو، تو پورا "ن" لکھا جاتا ہے اور صحیح قاعدے سے "ن" غنہ بغیر نقطے کے ہونا چاہیے جیسے [آن، مان] کے برخلاف [جہاں، کہاں، یہاں، وہیں، نہیں] وغیرہ میں۔ بےقاعدہ تحریر میں "ن" صحیح اور "ن" غنہ میں تمیز نہیں کی جاتی۔

    غنائیت کی حسبِ ذیل صورتیں ہیں:
    نونِ غنّہ
    ‌حرکتِ غنائی
    نونِ مخلوط (یا مخلوط التلفّظ)
    م بشکلِ ن
    نونِ غنّہ (ا) یہ لفظ کے آخر میں آئے تو سالم شکل میں لکھا جاتا ہے اور نقطے کے بغیر (ب)، جبکہ دو مصوّتوں کے درمیان آئے اور غنائیت حرفِ ماقبل سے مخصوص نہ ہو۔ جیسے: [ رن٘گ، ڈھن٘گ، بن٘کار، اون٘ھ، سین٘چنا ]۔ ایسی صوت میں حرفِ ماقبل اور حرفِ مابعد "بشمول غنہ" ایک رکنِ تہجّی (syllable) قرار پاتے ہیں اور ایک ساتھ ہی ادا ہو سکتے ہیں، جدا نہیں کہے جا سکتے۔

    (۲) حرفِ غنائی (یا مغنونہ): جبکہ حرفِ ماقبل کی حرکت میں غنائیت شامل ہو، جیسے: [ آن٘چل (آں+چل)، آن٘سو، سن٘ورنا، سِن٘گھار، کن٘وارا، جھن٘کانا ]۔ یہاں نونِ غنہ کے برخلاف دو سلیبل بن جاتے ہیں جنھیں ایک ‌ساتھ ادا نہیں کیا جا سکتا۔

    (۳) نونِ مخلوط: وہ ہے جس کی غنائیت حرفِ ماقبل کو غنائی بنانے کی بجائے، حرفِ مابعد کے ساتھ بطورِ حرفِ صحیح یا نیم حرفِ صیح پیوست ہو۔ جیسے: [بندر، دھندا، قِندیل، کُنڈی ]۔ ایسی صورت میں حرفِ مابعد کے لیے زبان کو تالُو سے ہٹانا نہیں پڑتا۔ یہی اس کے مخلوط ہونے کی پہچان ہے۔

    (ج) "م" بشکلِ "ن": یہ بھی در اصل غنائیت کی ایک شکل ہے جیسے [ ان٘بار، چن٘پا، سُن٘بل ] اور اِسے بھی غنّہ کی علامت الٹے جزم سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔

    یہ تو تھا حرف "ن" کی صوتی قدر و قیمت اور طریقِ املا کا ذکر۔ معنوی طور پر "ن" علامتِ نفی ہے اور اکثر بطورِ سابقہ آتا ہے اور اس صورت میں مفتوح بھی ہوتا ہے، جیسے [ نَپوتا، نَہوت، نَجانے ] وغیرہ ہندی اصل کے الفاظ میں؛ [ نَدیدہ، نَباشد، نگفتہ ] وغیرہ فارسی یا فارسی سے بنائے ہوئے الفاظ میں؛ اور مکسُور بھی یعنی زیر کے ساتھ، جیسے [ نِکمّا، نِٹھلا، نِڈر ] وغیرہ ہندی الفاظ میں اکثر "نِر" کی تخیف۔ لیکن بطورِ علامتِ نفی مضموم (پیش کے ساتھ) نہیں ہوتا۔ غنّہ کے ساتھ آنے والے نون کو ناخُن سے معنوی نسبت ہوتی ہے، جیسے: [ نُہٹا، نوچنا، نُہرنی (ناخن‌‌تراش یا ناخن‌گیر)]۔

    علامتِ نفی کے طور پر کبھی الفِ ماقبل کے ساتھ بھی آتا ہے۔ جیسے: [ اَن‌‌بن، انہونی، انجانا، اَن‌چھُوا، اَن‌‌دیکھا، اَنمِل (بےجوڑ)]۔

    "ن" مشدّد بھی ہوتا ہے، جیسے: [ انّا، مُنّی، سنّاٹا ] وغیرہ ہندی الفاظ میں یا [ صنّاع، تفنّن، طنّاز ] وغیرہ عربی الفاظ میں۔ فارسی میں اس کی مثالیں شاذ ہیں، جیسے: [ زُنّار ] اور وہ بھی [ جِیو ] اور [ ناڑی ] کی تفریس ہے۔

    یہ عجیب بات ہے کہ انگریزی میں "ن" کا بدل N اگرچہ املا میں اکثر دوہرا لکھا ہوتا ہے جیسے innovation، connect، لیکن کبھی مشدّد نہیں بولا جاتا سوائے ان مرکبات کے جہاں کہ لاحقہ un کے بعد کا لفظ حرف N سے شروع ہو جیسے: unnatural میں ایک طرح کی تشدید پیدا ہوتی ہے۔

    ترتیبِ ابجد میں "ن" چودھواں حرف ہے، ترتیبِ ابتث (عربی) میں بیسواں، فارسی کا تیسواں اور اردو کا سین٘تالیسواں جبکہ مخلوط ہائیہ حروف کو بھی (جو اپنی اپنی جگہ علاحدہ صوتیے یا فونِیم ہیں اور اِن سب کی دیوناگری میں جدا جدا شکلیں ہیں) شمار میں لیا جائے۔

    جمل میں (صحیح ’ج٘مل‘ با تشدید، عام بلا تشدید) اِس کے ۵۰ عدد مانے گئے ہیں اور مشدد ہو تب بھی اتنے ہی عدد دیے جائیں گے، کیونکہ حسابِ جمل میں علامات کو نظر انداز کیا جاتا ہے یہاں تک کہ بعض لوگ حرفِ ہمزہ کو بھی علامت سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ اصول ہمزۂ اضافت کی حد تک تو سمجھ میں آتا ہے (جیسے ’مایۂ افتخار‘ میں) لیکن جہاں ہمزہ جزوِ کلمہ ہو، جیسے کہ [ رئیس، کوئی، آئینہ ] وغیرہ میں، وہاں اسے نظرانداز کرنے کا جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ عربی میں تو الف (حرفِ صحیح) کا نام ہی ہمزہ ہے جس کی قیمت ایک ہے۔

    خط نستعلیق میں حرف "ن" کی بھی [ب، ت، ث ] وغیرہ کی طرح کوئی معین شکل نہیں جبکہ لفظ کے بیچ یا شروع میں آئے تو کم از کم چودہ شکلیں ہیں۔ یہ کہیں پورے قلم سے لکھا جائے گا، کہیں پاؤ قلم سے، کہیں مختصر شوشے کی صورت میں، کہیں کشش کے ساتھ۔ نسخ میں اس کی صورت نسبۃً زیادہ ہموار ہے۔ حرف "ن" حروفِ مقطّعات میں بھی شامل ہے۔ سورۂ قَلَم کی ابتدا اِسی سے ہوتی ہے۔ اگلے لوگوں کی تحریر میں ایک دعائیہ کلمہ بالنّونِ والصّاد بھی استعمال ہوتا رہا ہے، مراد غالبًا یہ کہ ان حروفِ مبارکہ کی برکت سے یا ان کے طفیل۔

    الفاظ کے آخر میں "ن" ساکن علامتِ حاصلِ مصدر کے طور پر بھی آتا ہے۔ جیسے: [ کھان پان، اڑان ] وغیرہ۔ فارسی میں علامتِ مصدر ہے: [ آمدن، رفتن ] وغیرہ، پورا آمدنامہ اسی شکل میں ہے۔ اردو میں یہ علامتِ تانیث بھی ہے، جیسے [ دھوبی سے دھوبن، کمھار سے کمھارن، تنبولی سے تنبولن ] اور غالبًا [ آئن ] کی تخفیف ہے جو [ نائن چودھرائن ] میں موجود ہے۔ [ مہترانی ] وغیرہ میں جو "آنی" ہے، وہ [ رانی ] سے تخفیف ہو کر بنا ہے۔ جیسے: [ ٹھاکر سے ٹھاکر رانی اور پھر ٹھکرانی ]۔
    فارسی کے علاوہ بعض دیسی بولیوں میں بھی "ن" علامتِ مصدر ہے اور تصریفی شکل میں بھی آتا ہے:
    گئی گوئیاں میں گھُومن بجریا
    میری بلما سے لاگی نجریا
    کچھ بولیوں میں علامتِ جمع بھی ہے، جیسے [ لوگ سے لوگَن، انگھیَن، نِیَن ] یا [ نَینَن ] اور یہ بلاشبہ فارسی "اں" کا ہم اصل ہے بلکہ بعض صورتوں "آں" ہی آتا ہے۔ شری کرشن کے بھجن کے بول ہیں :
    بن میں چراوت گَیاں
    اردو میں بھی جمعِ مؤنث کے لیے "آں" آتا ہے، جیسے [ مرغی ] سے [ مرغیاں ]، [ بولی ] سے [ بولیاں ]، [ ٹوپی ] سے [ ٹوپیاں ] اور پنجابی کی مستقل علامتِ جمع ہے۔ پنجابی کے اثر سے دکھنی بولی میں بھی [ بات ] سے [ باتاں ] اور [ نام ] سے [ ناماں ]، [ محل ] سے [ محلاں ]، جمعِ مؤنث اور جمعِ مذکر دونوں طرح مستعقل چلا آتا ہے۔ ان مشاہدات سے زبانوں کے تاریخی رشتوں پر روشنی پڑتی ہے۔

    عربی کی تنوین میں، جو اردو نے بھی اختیار کر لی ہے، خود بخود "ن" کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ تنوین کے معنی ہی "ن" کی آواز نکالنا ہے، جیسے: [ اشارةً، بداہۃً، رسمًا، یقینًا ]۔ یہاں [ اشارة، ہدایت، بداہت وغیرہ کے ساتھ تنوین الف کے ساتھ لکھنا عربی قاعدے کے خلاف ہے، کیونکہ اصل الفاظ [ اشارہ، بداهہ ] میں تائےمدورہ جزوِ کلمہ نہیں حرفِ زائد ہے بطورِ علامتِ تانیث، اور دو زائد حروف کلمے پر اضافہ نہیں کیے جا سکتے۔

    [ رسم ] اور [ یقین ] کے ساتھ کوئی حرفِ زائد لگا ہوا نہیں، اس لیے یہاں تنوین کے لیے ایک حرفِ زائد الف لگایا جائے گا۔ لیکن عام طور پر اردو لکھنے والے تمام مؤنث و مذکر الفاظ کے ساتھ تنوین بالفتحتین الف کے ساتھ لگاتے ہیں، البتہ مضموم مکسور الفاظ میں، جیسے [ صمٌ، بکمٌ ]، یا [ کُل عامٍ، علٰی نبیٍ ] میں تنوین بالالف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فتحہ اور کسرہ (زیر، زبر) دو متضاد حرکات ہیں، چنانچہ نسلًا بعد نسلٍ صحیح املا ہے۔

    تنوین اصل میں تو عربی الفاظ کے ساتھ آتی ہے، لیکن بعض دوسرے الفاظ کے ساتھ بھی لگا دی جاتی ہے، یہ اسم کو متعلقِ فعل بناتی ہے جیسے لازم سے لازمًا بمعنی لازمی طور سے؛ اندازاً، اندازے سے، لیکن اندازہ فارسی کا لفظ ہے جو عربی کی تنوین قبول کر رہا ہے یا نژاداً بمعنی نسلًا، نمونۃً (فارسی فلظ "نمونہ" کی تعریب "نمونج" ہے)۔ "تحریراً" میں بھی "تحریر" کے عربی میں یہ معنی نہیں (لکھائی)، بلکہ آزاد کرنا ہیں:
    رسم است که کاتبان تحریر
    آزاد کنند بندۂ پیر
    (آزادی کا پروانہ لکھنے والے بوڑھے غلاموں کو آزاد کر دیتے ہیں)۔ آجکل عام رجحان یہ ہے کہ تنوین بالفتحہ کو بلا تخصیص الف کے ساتھ لکھا جائے جیسے: روایۃً کی جگہ روایتًا، فطرةً کی جگہ فطرتًا، کیونکہ عام طور پر لوگوں کے لیے یہ شناخت کرنا مشکل ہو گا کہ کہاں "ة" جزوِ کلمہ ہے اور کہاں حرفِ زائد۔
     

    MonsieurGonzalito

    Senior Member
    Castellano de Argentina
    So, what I gather from @marrish's excerpt is:
    - there is no real prescription, regarding my question (and there is lassitude regarding the orthography on nuun in general).
    - nuun before retroflexes might fall into a "mixed" category which neither "full" nuun, nor Ghunnah proper
    - it is generally a bad idea try to shoehorn the sanskrit traditional/devanagari phonological concepts into this subject.
     
    Top