Urdu: Script norms for ھ and ہ

UrduMedium

Senior Member
Urdu (Karachi)
I spotted this issue while reading an old thread. See here

The dictionary entry read بہار which is normally read now as bahaar, while it really meant bhaar (what we these days would write as بھار)

I think the apparent discrepancy may have historic reasons. I first noticed this phenomenon couple of years ago, while reading some of the old manuscripts (personal memos) from the 1940s Delhi. I noticed a recurrent use the shoshaa he for aspirated sounds (samjhaa as سمجہا, bhaarii as بہاری), and the do chashmii he for the standalone he sound (e.g. pahaaR he as پھاڑ ھے, pehle as پھلے ). Somehow there were a few exception to this rule in words like mahiinah (مہینہ) and kehne (کہنے).

Has anyone observed this style shift from old documents to how we write the Urdu script now? I believe this was happening in the Platts entry referenced above.

Any comments appreciated.
 
  • Faylasoof

    Senior Member
    English (UK) & Urdu (Luckhnow), Hindi
    I spotted this issue while reading an old thread. See here

    The dictionary entry read بہار which is normally read now as bahaar, while it really meant bhaar (what we these days would write as بھار)

    I think the apparent discrepancy may have historic reasons. I first noticed this phenomenon couple of years ago, while reading some of the old manuscripts (personal memos) from the 1940s Delhi. I noticed a recurrent use the shoshaa he for aspirated sounds (samjhaa as سمجہا, bhaarii as بہاری), and the do chashmii he for the standalone he sound (e.g. pahaaR he as پھاڑ ھے, pehle as پھلے ). Somehow there were a few exception to this rule in words like mahiinah (مہینہ) and kehne (کہنے).

    Has anyone observed this style shift from old documents to how we write the Urdu script now? I believe this was happening in the Platts entry referenced above.

    Any comments appreciated.
    I'm not exactly sure when this started to happen but we certainly distinguish the way ھ and ہ are pronounced! So بہار bahaar and بہادر bahaadur etc. are always written as shown while bhaarii , bharaa etc. are now respectively بھاری and بھرا. There are other orthographic changes like these that I've seen, for example the use of ے versus ی. In the mid to even late 19th century Urdu works I only see the latter but you were supposed to pronounce it like the former! But this example we should discuss in a separate thread.
     

    BP.

    Senior Member
    Urdu
    I never noticed this because I don't read as often in Urdu, but I too remarked the distinctive usages of the two written-Hs.

    Just made this rather useless post because you had said
    Any comments appreciated.
    .
     

    Qureshpor

    Senior Member
    Panjabi, Urdu پنجابی، اردو
    میری خواہش ہے کہ اِس لڑی میں اِس بات کا فیصلہ ہو سکے کہ کلہاڑی، تمہارا اورننہا میں ہائے مخلوط ہے یا ہائے ہوّز۔ فورم کے دوستوں کی شرکت کا انتظار رہے گا۔
     

    marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu
    اس کی تحقیق کے لیے میرے پاس کچھ مواد موجود ہے لیکن خدشہ ہے کہ محنت پر پانی نہ پھرے۔ اس لیے سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہوں گا کہ کیا آپ کا سوال املا اور زبان کی لکھی ہوئی صورت سے وابستہ ہے یا تلفّظ ( یا تو دونوں سے)؟​
     

    Qureshpor

    Senior Member
    Panjabi, Urdu پنجابی، اردو
    آپ کو معلوم ہی ہے کہ دیوَناگری رسم الخط میں ل+ہ، م+ہ اور ن+ہ کے لئے الگ حروف کا وجود نہیں ہے جبکہ ب+ہ، پ+ہ، گ+ہ وغیرہ لئے علیٰحدہ حروف ہیں۔ کیا اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ آخرالذکر حروف میں مخلوط ہ کی آواز ہے اور اوّل الذکر میں ہائے ہوّز کی؟ اور اگر یہ مخلوط آوازیں ہیں تو نہ جانے اِن کے لئے دیوَناگری میں الگ حروف تشکیل کیوں نہیں کیے گئے؟

    اگر ہم کہیں کہ کلہاڑی کُ +لہاڑی ہے تو پھر لگتا ہے کہ لہ ایک مخلوط آواز ہے اور اگر ہم سمجھیں کہ کلہاڑی کُل + ہاڑی ہے تو پھر یقیناً یہاں ہائے ہوّز ہے نہ کہ ہائے مخلوط۔ اوّل الذکر صورت میں پھر کلہاڑی کو کلھاڑی، کولہا کو کولھا، تمہارا کو تمھارا اور ننہا کو ننھا لکھنا چاہئیے۔ بصورتِ دیگر کلہاڑی، کولہا، تمہارا اور ننہا صحیح املا ہو گا۔

    اب فیصلہ آپ پر ہے کونسی صورت لسانی اعتبار سے صحیح ہے۔

    پس نوشت۔ میں املا کو مؤنّث سمجھتا آیا ہوں لیکن لگتا ہے کہ یہ لفظ مذکّر ہے۔
     

    marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu
    دوچشمی ہ (ھ) کے غلط استعمال" کے موضوع میں پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی صاحب فرماتے ہیں کہ "تمھارا" صحیح ہے۔

    "دو چشمی ہ (ھ) کا غلط استعمال.........اردو میں دوچشمی ہ (ھ) صرف اس وقت استعمال ہوتی ہے جب کسی اور حرف کے ساتھ ہ کی آواز کو ظاہر کرنا ہو۔ لہٰذا یہ لفظ کے شروع میں ہرگز نہ آئے گی۔ مثلاً ھندوستان، ھرجانہ، ھمیشہ، ھوا، ھونا، اللہ ھو، ھاتھی وغیرہ۔ یہ سب بالکل غلط املے ہیں۔

    مندرجۂ ذیل الفاظ میں دوچشمی ہ (ھ) کا استعمال ضروری ہے: آلھا، کھانا، باندھنا، دھن، گاڑھا، ننھا، بدھ، سکھ وغیرہ۔ جہاں پر ہاے ہوز (خواہ لٹکن والی، یا کہنی دار) ہے، اس کی جگہ پر دوچشمی ہ (ھ) بالکل نہیں آئے گی۔ چنانچہ حسب ذیل املے سب غلط ہیں: نھیں (صحیح نہیں)؛ کھنا (صحیح کہنا)؛ رھنا (صحیح رہنا)؛ وغیرہ۔

    اس طرح، جہاں دوچشمی ہ (ھ) لفظ کے بیچ میں ہو، وہاں بھی ہاے ہوّز نہیں لگ سکتی۔ مثلاً حسب ذیل املے غلط ہیں:
    پڑہنا (صحیح پڑھنا)؛ انہیں (صحیح انھیں)؛ جنہیں (صحیح جنھیں)؛ مجہے (مجھے)؛ انہوں (صحیح انھوں)؛ تمہیں (صحیح تمھیں)؛ تمہارا (صحیح تمھارا) وغیرہ۔"
     

    marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu
    There's a dead link in post #4 by UrduMedium Sb. but I managed to find the text elsewhere and the relevant portion, I think is the following:

    کچھ لفظوں میں املا کے اصولیوں نے ھ کو اس لیے شامل کیا ہے کہ ان میں ہ کی آواز آتی ہے لیکن ە ان کے اندر حرفِ اصلی نہیں ہے. چنانچہ کمھار، کلھاڑا، چولھا، کولھو، دولھا، دولھن، وغیرہ، اسی طرح لکھے جائیں گے. اور اسی طرح گیارھواں، بارھواں، تیرھواں، چودھواں، پندرھواں، سولھواں، سترھواں، اٹھارواں کی یہی صورتیں درست ہیں. لیکن جہاں ە حرفِ اصلی ہے وہاں یہ برقرار رہے گی جیسے دوہرانا، شوہر، لوہار، چاہنا، چاہت، چاہیے، سراہنا، رہنا، رہن سہن، واہیات، جمہوریت، سہولت، وغیرہ. البتہ نباہنا/نبھانا دونوں چلن دار ہیں لہذا دونوں بیک وقت درست ہیں..
    جن مرکب لفظوں میں “ہیں” یا “ہوں” یا “ہارے” یا “ہاری” وغیرہ کی واضح آواز آتی ہے لیکن یہ الفاظ اصلی نہیں ہیں ان میں ھ لگتی ہے جیسے انھوں، انھیں، تمھیں، جنھوں، جنھیں، تمھارا، تمھارے، تمھاری، وغیرہ. اس اصول پر کبھی (کب+ہی)، سبھی (سب+ہی)، ابھی (اب+ہی)، جبھی (جب+ہی) وغیرہ کو ە سے لکھنا چاہیے یعنی کبہی، سبہی، ابہی، جبہی، وغیرہ. لیکن انھیں آنکھوں سے نامانوس ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں لکھا جاتا بلکہ کبھی، سبھی، ابھی، جبھی ہی درست ہیں. سہولت کے لیے آپ انھیں مستثنیات کہہ لیجیے. تاہم انہی، جونہی، یونہی، یہی اور وہی کو اسی طرح لکھا جاتا ہے کیونکہ یہ اصل میں ان+ہی، جوں+ہی، یوں+ہی، یہ+ہی اور وہ+ہی ہیں. اسی طرح یہاں/یہیں، کہاں/کہیں اور وہاں/وہیں بھی ھ کے بجائے ە سے لکھے جائیں گے. ہم+ہی کو “ہمہی” یا “ہمی” لکھنا رواج میں نہیں ہے البتہ اس کی ایک صورت “ہمیں” کچھ استاد شعرا نے باندھی ہے، چنانچہ اسے صرف شعری ضرورت کے لیے برتا جانا درست ہے. “ہمہ ہمی” ایک مستقل سرلفظ ہے.

    عربی font میں ە اور ھ میں کوئی فرق نہیں ہے اور ھ محض ایک مختلف کے طور پر استعمال ہوتی ہے، اس لیے اللھم، اشھد ان لا الہ الا اللہ، علیھم، وغیرہ وغیرہ سب درست ہیں کیونکہ ان سے اردو والوں کی آنکھیں مانوس ہیں۔ تاہم اردو میں عربی کے جو لفظ ہ کے ساتھ دیکھے لکھے جانے مانوس ہیں انھیں اسی طرح لکھا جائے گا جیسے مشہور، جمہور، مہجور، اہم، اہمیت، مبہوت، نہایت، جاہل، وغیرہم، کلہم، وہم، اوہام، موہوم، یہودی، وغیرہ وغیرہ کا یہی املا درست ہے۔
     

    Qureshpor

    Senior Member
    Panjabi, Urdu پنجابی، اردو
    مرّش صاحب۔ اصلی اور غیر اصلی ہ کی تعریف کیا ہے؟
     

    marrish

    Senior Member
    اُردو Urdu

    مجھے کیا معلوم ! ممکن ہے "اصلی ہ" ہائےہوّز اور "غیر اصلی ہ" ہائےمخلوط والی اصطلاحات کو آسان لفظوں میں بیان کرنے کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے۔

    چونکہ ہائےہوّز اور ہائےمخلوط کے تلفّظ میں فرق ہوتا ہے، شاید اس لیے مصنّفِ متن نے ہائےہوّز کی آواز کو بنیادی رتبہ دے کر اسے "اصلی ہ" بتایا اور ہائےمخلوط کی آواز کو "غیر اصلی ہ" نامزد کر لیا ہو۔
     
    < Previous | Next >
    Top